“گلگت بلتستان: وعدوں کی سیاست اور عوامی اعتماد کا امتحان
گلگت بلتستان پاکستان کا وہ خطہ ہے جسے قدرت نے بے پناہ حسن، معدنی وسائل، پانی کے ذخائر اور جغرافیائی اہمیت سے نوازا ہے، مگر سیاسی طور پر یہ خطہ آج بھی مکمل آئینی شناخت، پائیدار ترقی اور بااختیار مقامی حکمرانی کے سوالات سے دوچار ہے۔ ہر انتخابی موسم میں مختلف سیاسی جماعتیں عوام کے سامنے ترقی، حقوق، روزگار، سیاحت، آئینی اصلاحات اور بہتر طرزِ حکمرانی کے وعدے کرتی ہیں، لیکن ماضی کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وعدوں اور عملی اقدامات کے درمیان ایک واضح فرق ہمیشہ موجود رہا ہے۔
گلگت بلتستان کی سیاست کا سب سے اہم پہلو یہ رہا ہے کہ یہاں اکثر وہی جماعت اقتدار میں آتی رہی جو وفاق میں حکومت بنا چکی ہو۔ اس رجحان نے مقامی سیاست کو ایک حد تک وفاقی سیاسی مفادات کے تابع رکھا۔ عوام کو امید دلائی جاتی رہی کہ چونکہ مرکز اور گلگت بلتستان میں ایک ہی جماعت کی حکومت ہوگی، اس لیے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی آئے گی، مگر عملی طور پر کئی منصوبے اعلانات سے آگے نہ بڑھ سکے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے ادوار میں گلگت بلتستان کو ایک نیا انتظامی ڈھانچہ دینے کی کوشش کی۔ 2009 کا گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر ایک اہم پیش رفت سمجھا گیا، جس کے ذریعے پہلی مرتبہ مقامی اسمبلی اور وزارتِ اعلیٰ جیسے اداروں کو نسبتاً زیادہ اختیارات دیے گئے۔ تاہم ناقدین کے مطابق یہ اقدامات مکمل آئینی حقوق کا متبادل نہ بن سکے۔ مقامی سطح پر یہ سوال آج بھی موجود ہے کہ اگر اس وقت مزید سنجیدہ آئینی پیش رفت کی جاتی تو شاید آج خطہ سیاسی غیر یقینی کیفیت سے باہر نکل چکا ہوتا۔
مسلم لیگ (ن) کے دور میں سی پیک، شاہراہِ قراقرم کی بہتری اور انفراسٹرکچر کے بڑے دعوے کیے گئے۔ بلاشبہ کچھ سڑکوں، توانائی منصوبوں اور مواصلاتی شعبوں میں پیش رفت ہوئی، مگر مقامی نوجوانوں کو روزگار اور پالیسی سازی میں مؤثر نمائندگی دینے کے وعدے مکمل طور پر پورے نہ ہو سکے۔ کئی حلقوں میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ بڑے منصوبوں میں مقامی آبادی کو وہ حصہ نہیں ملا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
پاکستان تحریک انصاف نے گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینے کا مؤقف اختیار کیا، جسے عوامی سطح پر کافی پذیرائی ملی۔ مگر سیاسی اور آئینی پیچیدگیوں کے باعث یہ معاملہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ اس دوران گندم سبسڈی، ٹیکس اصلاحات، زمینوں کے تنازعات اور عوامی احتجاج جیسے معاملات نے حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے کو نمایاں کیا۔ اس صورتحال نے یہ واضح کیا کہ صرف سیاسی نعرے عوامی اعتماد کو دیرپا نہیں بنا سکتے، بلکہ مستقل اور عملی پالیسیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام اب محض انتخابی وعدوں سے زیادہ سنجیدہ طرزِ حکمرانی چاہتے ہیں۔ نوجوان نسل تعلیم یافتہ ہے، سوشل میڈیا اور عالمی سیاسی رجحانات سے آگاہ ہے، اور وہ صرف سڑکوں یا وقتی ترقیاتی اسکیموں سے مطمئن نہیں ہوتی۔ عوام اب شفافیت، آئینی تحفظ، وسائل پر حقِ ملکیت، ماحولیات کے تحفظ اور پائیدار ترقی جیسے سوالات کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔
ماضی کی ایک بڑی غلطی یہ بھی رہی کہ اکثر سیاسی جماعتوں نے گلگت بلتستان کو انتخابی سیاست کے تناظر میں تو اہم سمجھا، مگر ایک مستقل قومی پالیسی کے تحت اس خطے کے مستقبل کا تعین نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نئی حکومت کے ساتھ پالیسیوں کا رخ بھی تبدیل ہوتا رہا۔ اس غیر تسلسل نے نہ صرف ترقیاتی عمل کو متاثر کیا بلکہ عوامی اعتماد کو بھی کمزور کیا۔
سفارتی اور سیاسی حقیقت یہی ہے کہ گلگت بلتستان جیسے حساس اور اسٹریٹجک خطے کے لیے وقتی سیاسی بیانیوں کے بجائے قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔ یہاں کے عوام کو محض ووٹر نہیں بلکہ شراکت دار سمجھنا ہوگا۔ اگر سیاسی جماعتیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے سنجیدہ آئینی، معاشی اور انتظامی اصلاحات کی جانب بڑھیں، تو گلگت بلتستان نہ صرف پاکستان کی معیشت بلکہ علاقائی روابط اور سیاحت کا ایک مضبوط مرکز بن سکتا ہے۔
وقت کا تقاضا یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں وعدوں کی سیاست سے نکل کر اعتماد کی سیاست کو فروغ دیں، کیونکہ باشعور عوام اب نعروں سے زیادہ عملی کارکردگی کو اہمیت دیتے ہیں
Labels: #Career #Shaping, #Comparative_analysis, #Daily_K2, #Development, #Gareth Locksley, #Gilgit-Baltistan #Youth, #GilgitBaltistanElection2026 #GB_Election, #Infrastructure

0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home